نئی دہلی، 29دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں گورنرراج کو سہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے سیاسی حالات کودیکھتے ہوئے کوئی اورمتبادل بچاہی نہیں تھا۔مرکزنے پارلیمنٹ میں کہا کہ کوئی سیاسی جماعت یا اتحادی نے حکومت کی تشکیل کا دعوی نہیں کیا تھا، تاہم لوک سبھا میں اس سلسلے میں حکومت سے پوچھے سوال کے جواب میں کہاکہ ہم جلد ہی انتخابات منعقد کرنے کے لئے تیار ہیں۔پارلیمان میں ایک قرارداد پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، وزیر اعظم راج ناتھ سنگھ نے حزب اختلاف کے دعوی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے کسی بھی علاقائی جماعت سے حکومت بنانے کے لئے رابطہ نہیں کیا۔جموں و کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 356لگائے جانے کے سلسلے میں قانونی قرارداد پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جموں کشمیر میں کوئی بھی غلط یا غیر اخلاقی کارروائی اس حکومت کے تحت نہیں ہو گی۔ریاست میں انتخابات منعقد کرنے کے بارے میں کچھ ارکان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات الیکشن کمیشن کا کام ہے لیکن ہم مکمل طور پر تیار ہیں،اگر کمیشن نے انتخابات کے سلسلے میں سیکورٹی کے لئے مطالبہ کیا تو ہم فراہم کریں گے۔ سنگھ نے کہا کہ یہ مرکز جمہوریت عمل کا آگے بڑھانے کے لئے تیار ہے۔جموں و کشمیر میں صدر راج لگائے جانے کا دفاع کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی کی نیت پر سوال نہیں کیا جا سکتا،اگر بی جے پی حکومت بناناچاہتی تو وہ 6 ماہ میں کوشش کر سکتی تھی، لیکن ہم نے نہیں کیا۔انہوں نے زور دیا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک دو لوگوں نے کوئی کوشش کی ہو، لیکن ہماری طرف سے یا پھر ہماری حکومت کی جانب سے کوئی کوشش نہیں ہوئی،چونکہ حکومت بنانے کے لئے کوئی تیاری نہیں تھی اور گورنر کی رپورٹ وہاں تھی، اس صورتحال میں آرٹیکل 356کا استعمال کیا گیا تھا،گورنر کو کوئی اختیار نہیں تھا۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ خود ایک بار گورنر سے پوچھا کہ وہاں کوئی حکومت بنانے کے لئے تیار نہیں ہے؟میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس تینوں جماعتیں مل کر حکومت تشکیل دے سکتی ہے لیکن صبح میں نے راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کا بیان پڑھا کہ کانگریس نہیں بنانا چاہتی،لہذا، میرا تاثر یہ تھا کہ کوئی بھی حکومت نہیں بناناچاہتی۔گورنر نے بھی کہاہے کہ کوئی بھی پارتی حکومت نہیں بنانا چاہتی ہے۔حالانکہ تین پارٹیوں نے حکومت سازی کادعویٰ پیش کردیاتھا۔